نئی دہلی،18مارچ(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) مرکزی وزیرمختارعباس نقوی نے کہاہے کہ اقلیتوں کو بہتر سے بہتر تعلیم اداروں کے ذریعے اعلی معیار کی تعلیم فراہم کرنے اور ان کی مہارت کی ترقی حکومت کی ترجیح ہے اور اسی مقصد سے حکومت بین الاقوامی سطح کے 5 تعلیمی اداروں کا قیام کرنے جا رہی ہے جو سال 2018 تک کام کرنا شروع کر سکتی ہے۔ نقوی نے کہا کہ اقلیتی وزارت اقلیتوں کو بہتر روایتی اور جدید تعلیم مہیا کرانے کے لئے بین الاقوامی سطح کے 5 تعلیمی ادارے قائم کر رہا ہے۔ تکنیکی، میڈیکل، آیور ویدک، یونانی سمیت عالمی مہارت کی ترقی کی تعلیم دینے والے ایسے ادارے ملک بھر میں قائم کئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایک اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تعلیمی اداروں کیلئے مقامات وغیرہ کے بارے میں بحث کر رہی ہے اور جلد ہی اپنی تفصیلی رپورٹ دے گی، ہماری کوشش ہوگی کہ یہ تعلیمی ادارے سال 2018 سے کام شروع کر دیں۔مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نقوی نے آج کہا کہ ان مجوزہ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے لئے 40 فیصد ریزرویشن کئے جانے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو بہتر جدید تعلیم مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں روزگار قابل بنانا ہمارا مقصد ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کی طرف ہم مضبوطی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔نقوی نے کہا کہ اقلیتوں کو تعلیمی با اختیار بنانے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے جنگی پیمانے پر مہم چلائی ہے جس سے کہ اقلیتوں کو سستی اورمعیاری تعلیم مل سکے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس بار اقلیتی وزارت کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔سال 2017۔18 کے لئے اقلیتی وزارت کا بجٹ بڑھا کر 4195.48 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس میں گزشتہ بجٹ کے 3827.25 کروڑ روپے کے مقابلے 9.6 فیصد کا اضافہ ہے۔